إِسْحَاق بْنُ شَاهِينٍ ، خَالِدٌ ، الشَّيْبَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، رَجُلٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ شَاهِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَلَى الْيَمَنِ، فَأُتِيَ بِغُلَامٍ تَنَازَعَ فِيهِ ثَلَاثَةٌ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ , خَالَفَهُمْ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ،
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا۔ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا، جس کا باپ ہونے کے تین دعویدار تھے اور آگے وہی حدیث پوری بیان کر دی (جو پہلے گزر چکی ہے) نسائی کہتے ہیں: «خالفہم سلمۃ بن کہیل» سلمہ بن کہیل نے ان لوگوں کے خلاف روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3519 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مخالفت یہ ہے کہ اوپر کی روایتوں میں سے ایک روایت میں صالح ہمدانی نے، ایک روایت میں اجلح نے اور ایک روایت میں شیبانی نے زید بن ارقم کو سند میں ذکر کر کے حدیث مرفوع بیان کیا ہے لیکن سلمہ بن کہیل نے اپنی روایت میں زید بن ارقم کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح لغيره