مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانِي، فَقَالَ: اعْتَزِلِ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَا تَقْرَبْهَا"، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے واقعے کے ذکر میں بتایا: اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا تم اپنی بیوی سے جدا ہو جاؤ، میں نے اس سے کہا: میں اسے طلاق دے دوں، اس نے کہا نہیں، طلاق نہ دو، لیکن اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس حدیث میں انہوں نے «الحقی باھلک» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11154) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح