مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، أَبِي ، إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ , قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَى صَاحِبَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ، فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: أُطَلِّقُ امْرَأَتِي أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ تَعْتَزِلُهَا، فَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي فِيهِمْ فَلَحِقَتْ بِهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے (اور وہ ان تینوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی ہے ۱؎، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں ۲؎ کے پاس (ایک شخص کو) بھیجا (اس نے کہا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیویوں سے الگ رہو، میں نے قاصد سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو بلکہ اس سے الگ تھلگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور انہیں کے ساتھ رہو، تو وہ ان کے پاس جا کر رہنے لگی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوصایا 16 (2757)، الجہاد 103 (2957)، 198 (3088)، المناقب 23 (3556)، المغازي 3 (3951)، تفسیر سورة البراء ة 14 (4673)، 17 (4677)، 18 (4676)، 19 (4678)، الاستئذان21 (6255)، الأیمان والنذور 24 (6690)، الأحکام 53 (2725)، صحیح مسلم/المسافرین 12 (2769)، سنن ابی داود/الطلاق 11 (2202)، الجہاد 173 (2773)، 178 (2781)، الأیمان والنذور 29 (3317)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر التوبة (3101)، (تحفة الأشراف: 11131)، مسند احمد (3/456، 457، 459)، سنن الدارمی/الصلاة 184 (1561) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ہے۔ ۲؎: مرارہ بن ربیع العمری، ھلال بن امیہ الواقفی رضی الله عنہما۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح