مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، الْقَاسِمُ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَهَا، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ فَقَالَ:" لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا، كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس عورت نے دوسرے شخص سے شادی کر لی۔ اس (دوسرے شخص) نے اس سے جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا کیا (ایسی صورت میں) وہ عورت پہلے والے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک کہ وہ (دوسرا) اس کے شہد کا مزہ نہ لے لو جس طرح اس کے پہلے شوہر نے مزہ چکھ لیا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الطلاق 4 (5261)، صحیح مسلم/النکاح 17 (1433)، تحفة الأشراف: 17536)، مسند احمد (6/193) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جب دوسرا شوہر اس سے مکمل صحبت کر لے گا اور طلاق دیدے گا یا انتقال کر جائے گا تو وہ عدت گزار کر پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی بشرطیکہ وہ اس سے دوبارہ نکاح کرے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح