الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ , هَلْ أَصَبْتَ امْرَأَةً بَعْدِي؟" قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَبِكْرًا أَمْ أَيِّمًا؟" قُلْتُ: أَيِّمًا؟ قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم مجھ سے اس سے پہلے ملنے کے بعد بیوی والے ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کیا کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کہ جو تمہیں کھیل کھلاتی؟“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2465) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح