قُتَيْبَةُ ، حَمَّادٌ ، عَمْرٍو ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ" , قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟" فَقُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا، تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نکاح کیا، اور (اور بیوی کے ساتھ پہلی رات گزارنے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ”جابر! کیا تم نے نکاح کیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں! آپ نے کہا: ”کنواری سے (شادی کی ہے) یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: بیوہ سے“، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی؟“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 43 (2097)، الوکالة 8 (2309)، الجہاد 113 (2967)، المغازي 18 (4052)، النکاح10 (5079)، 121 (5245)، 122 (5247)، النفقات 12 (5367)، الدعوات 53 (6387)، صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن الترمذی/النکاح 13 (1100)، (تحفة الأشراف: 2512)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 3 (2048)، سنن ابن ماجہ/النکاح 7 (1860)، مسند احمد (3/294، 302، 314، 362، 374، 376)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2262) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح