بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3104 — باب: گھر بیٹھ رہنے والوں پر جہاد کے لیے نکلنے والوں کی فضیلت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل باب: گھر بیٹھ رہنے والوں پر جہاد کے لیے نکلنے والوں کی فضیلت کا بیان۔ حدیث 3104
حدیث نمبر: 3104 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْبَرَاءِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 , جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: فَكَيْفَ فِيَّ وَأَنَا أَعْمَى؟ قَالَ: فَمَا بَرِحَ حَتَّى نَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «‏لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اتری تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو اندھے تھے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرے متعلق کیا حکم ہے؟ (میں بیٹھا رہنا تو نہیں چاہتا) اور آنکھوں سے مجبور ہوں، (جہاد بھی نہیں کر سکتا) پھر تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ یہ آیت: «غير أولي الضرر» نازل ہوئی (یعنی معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1909) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3103) باب پر واپس اگلی حدیث (3105) →