نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْبَرَاءِ
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ:" ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ، فَكَتَبَ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، خَلْفَهُ، فَقَالَ: هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (فرمایا: کیا فرمایا؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے: شانے کی ہڈی، تختی (کچھ) لاؤ۔ (جب وہ آ گئی تو اس پر لکھا یا) چنانچہ (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے) لکھا: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اور عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے موجود تھے۔ (وہ اندھے تھے۔ اسی مناسبت سے) انہوں نے کہا: کیا میرے لیے رخصت ہے؟ (میں معذور ہوں، جہاد نہیں کر پاؤں گا) تب یہ آیت «غير أولي الضرر» ”ضرر، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور، معذور کو چھوڑ کر“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الجہاد 1 (1670)، (تحفة الأشراف: 1859)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 31 (2831)، وتفسیرسورة النساء 18 (4593)، وفضائل القرآن 4 (4990)، صحیح مسلم/الإمارة 40 (1898)، مسند احمد (4/283، 290، 330)، سنن الدارمی/المناسک والجہاد 28 (2464) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح