بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 2418 — باب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔ حدیث 2418
حدیث نمبر: 2418 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ ، أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ كُوفِيٌّ ، عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ ، الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ ، حَفْصَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ كُوفِيٌّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ:" أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِيَامَ عَاشُورَاءَ، وَالْعَشْرَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ چار باتیں ایسی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے: ۱- عاشوراء کے روزے کو ۲- ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے روزے کو ۱؎ ۳- ہر مہینہ کے تین روزے ۴- اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15813)، مسند احمد 6/287 (ضعیف) (اس کے راوی ”ابو اسحاق اشجعی‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت
۱؎: مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اس سے خارج ہے کیونکہ یوم النحر کو روزے رکھنا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق الأشجعي: لم أجد من وثقه،والحديث الآتي (2419) يغني عن حديثه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2417) باب پر واپس اگلی حدیث (2419) →