عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، زُهَيْرٍ ، الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيَّ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُهَا , تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ، ثُمَّ الْخَمِيسَ، ثُمَّ الْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ہنیدہ خزاعی کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین کے پاس آیا، اور میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے۔ مہینے کے پہلے کہ دوشنبہ (پیر) کو، پھر جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے آنے والے جمعرات کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15814) (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح