بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 1990 — باب: جنازے کی دعا کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: جنازے کی دعا کا بیان۔ حدیث 1990
حدیث نمبر: 1990 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: تَقْرَأُ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طلحہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک جنازے کی نماز پڑھی، تو میں نے انہیں سورۃ فاتحہ پڑھتے سنا، تو جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، اور پوچھا: آپ (نماز جنازہ میں) قرآن پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، (یہی) حق اور سنت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«وانظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1989) باب پر واپس اگلی حدیث (1991) →