بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 1989 — باب: جنازے کی دعا کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: جنازے کی دعا کا بیان۔ حدیث 1989
حدیث نمبر: 1989 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ ، إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، أَبِي ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قال:" صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَجَهَرَ حَتَّى أَسْمَعَنَا، فَلَمَّا فَرَغَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: سُنَّةٌ وَحَقٌّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے جنازہ کی نماز پڑھی، تو انہوں نے سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھی، اور جہر کیا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں سنا دیا، جب فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا: (یہ کیا؟) تو انہوں نے کہا: (یہی) سنت (نبی کا طریقہ) ہے، اور (یہی) حق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 65 (1335) مختصراً، سنن ابی داود/الجنائز 59 (3198) مختصراً، سنن الترمذی/الجنائز 39 (1016) مختصراً، (تحفة الأشراف: 5764) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1988) باب پر واپس اگلی حدیث (1990) →