الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَفَّانَ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَفَّانَ، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ قَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ دیہات والوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: ”دو دو رکعت ہے، اور وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن ابی داود/الصلاة 338 (1421)، (تحفة الأشراف: 7267)، مسند احمد 2/40، 58، 71، 76، 79، 100 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح