الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں نماز پڑھو، انہیں قبرستان نہ بناؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8520)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 52 (432)، التھجد 37 (1187)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (777)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1043)، 346 (1448)، سنن الترمذی/الصلاة 214 (451)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 186 (1377)، مسند احمد 2/6، 16، 123 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نماز سے مراد نوافل اور سنتیں ہیں۔ ”انہیں قبرستان نہ بناؤ“ یعنی اس سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام نہیں ہوتا وہ قبرستان کی طرح ہوتے ہیں، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں اسی طرح ایسے گھر بھی عمل اور عبادت سے محروم ہوتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح