أَبُو بَكْرٍ ، الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ , أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: صَدَقَ عَبْدِي , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا , وَأَنَا أَكْبَرُ , وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ , قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِي , وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا , وَلَا شَرِيكَ لِي , وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا , لِي الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ , وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي" , قَالَ أَبُو إِسْحَاق: ثُمَّ قَالَ: الْأَغَرُّ شَيْئًا لَمْ أَفْهَمْهُ , قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ: مَا قَالَ , فَقَالَ: مَنْ رُزِقَهُنَّ عِنْدَ مَوْتِهِ، لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اغر ابومسلم سے روایت ہے اور انہوں نے شہادت دی کہ ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ «لا إله إلا الله والله أكبر» یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله وحده» یعنی صرف تنہا اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، میں ہی اکیلا معبود برحق ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله لا شريك له» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک اور ساجھی نہیں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله له الملك وله الحمد» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اسی کی بادشاہت اور ہر قسم کی تعریف ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، بادشاہت اور تعریف (یعنی ملک اور حمد) میرے ہی لیے ہے، اور جب بندہ «لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور اس کے علاوہ کسی میں کوئی طاقت و قوت نہیں، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میرے علاوہ کسی میں کوئی قوت و طاقت نہیں ۱؎۔ ابواسحاق کہتے ہیں: پھر اغر نے ایک بات کہی جسے میں نہ سمجھ سکا، میں نے ابوجعفر سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مرتے وقت ان کلمات کے کہنے کی توفیق بخشی تو اسے جہنم کی آگ نہ چھوئے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الدعوات 37 (3430)، (تحفة الأشراف: 3966، 12196) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس میں کلمہ تمجید کے علیحدہ علیحدہ کلمات مذکور ہیں، پورا کلمہ یوں ہے جو ہر نماز کے بعد پڑھنا مسنون ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له الملك وله الحمد و هو على كل شيئ قدير لاإله إلا الله والله أكبرلا حول ولا قوة إلا باللهالعلى العظيم» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3430)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 512
الحكم: صحيح