بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3262 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مِسْعَرٍ ، عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، أَبِي جُحَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا آكُلُ مُتَّكِئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأطعمة 13 (5398، 5399)، سنن ابی داود/الأطعمة 17 (3769)، سنن الترمذی/الاطعمة 28 (1830)، (تحفة الأشراف: 11801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/308، 309)، سنن الدارمی/الأطعمة 31 (2115) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: تکیہ لگا کر کھانا تکبر اور گھمنڈ کی نشانی ہے، اس وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پرہیز کیا، اور بعضوں نے کہا: عجمیوں کی نشانی ہے جو تکلف میں پھنسے ہوئے ہیں، اور آپ عرب میں پیدا ہوئے تھے بے تکلفی کو پسند کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3263 سنن ابن ماجہ
عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، قَالَ: أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً , فَجَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ يَأْكُلُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کھانے لگے، اس پر ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا: بیٹھنے کا یہ کون سا انداز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مہربان و شفیق بندہ بنایا ہے، ناکہ مغرور اور عناد رکھنے والا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5202، ومصباح الزجاجة: 1121)، وقد أخرج بعضہ: سنن ابی داود/الأطعمة 18 (3773) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی دونوں زانو کھڑے کر کے بیٹھنا عاجزی اور انکساری کی علامت ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی طرح بیٹھ کر کھانا پسند فرمایا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح