مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مِسْعَرٍ ، عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، أَبِي جُحَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا آكُلُ مُتَّكِئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأطعمة 13 (5398، 5399)، سنن ابی داود/الأطعمة 17 (3769)، سنن الترمذی/الاطعمة 28 (1830)، (تحفة الأشراف: 11801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/308، 309)، سنن الدارمی/الأطعمة 31 (2115) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: تکیہ لگا کر کھانا تکبر اور گھمنڈ کی نشانی ہے، اس وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پرہیز کیا، اور بعضوں نے کہا: عجمیوں کی نشانی ہے جو تکلف میں پھنسے ہوئے ہیں، اور آپ عرب میں پیدا ہوئے تھے بے تکلفی کو پسند کرتے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح