بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہدی میں نر اور مادہ دونوں کے جواز کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل باب: ہدی میں نر اور مادہ دونوں کے جواز کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3100 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھیجا جو (جنگ میں بطور غنیمت آپ کو ملا تھا) جس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6481)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 269) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: حدیث میں «جمل» (اونٹ) کا لفظ ہے جو نر اونٹ کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3101 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بُدْنِهِ جَمَلٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہدی کے اونٹوں میں ایک نر اونٹ بھی تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4530، ومصباح الزجاجة: 1074) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قربانی میں اکثر اونٹیناں بھیجتے تھے اس لیے کہ اونٹنی کی قدر عربوں میں زیادہ ہے اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کے واسطے قربانی میں اسی کو زیادہ ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح لغيره