بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 3101 — باب: ہدی میں نر اور مادہ دونوں کے جواز کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل باب: ہدی میں نر اور مادہ دونوں کے جواز کا بیان۔ حدیث 3101
حدیث نمبر: 3101 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بُدْنِهِ جَمَلٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہدی کے اونٹوں میں ایک نر اونٹ بھی تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4530، ومصباح الزجاجة: 1074) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قربانی میں اکثر اونٹیناں بھیجتے تھے اس لیے کہ اونٹنی کی قدر عربوں میں زیادہ ہے اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کے واسطے قربانی میں اسی کو زیادہ ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح لغيره
← پچھلی حدیث (3100) باب پر واپس اگلی حدیث (3102) →