عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، مُسَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بُنْيَانًا يُظِلُّكَ؟، قَالَ:" لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم منیٰ میں آپ کے لیے ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«أنظر ما قبلہ (ضعیف)»
وضاحت
۱؎: یعنی منیٰ کا میدان حاجیوں کے لئے وقف ہے، وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے، اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے، تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ گھر بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف