أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا؟، قَالَ:" لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/المناسک 89 (2019)، سنن الترمذی/الحج 51 (881)، (تحفة الأشراف: 17963)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/187ٕ 206)، سنن الدارمی/المناسک 87 (1980) (ضعیف)» (ام یوسف مسیکہ مجہول العین ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 345)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف