بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عمرہ کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل باب: عمرہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2989 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، إِسْحَاق بْنِ طَلْحَةَ ، طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاق بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْحَجُّ جِهَادٌ، وَالْعُمْرَةُ تَطَوُّعٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: حج جہاد ہے، اور عمرہ نفل ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4994، ومصباح الزجاجة: 1047) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عمر بن قیس اور حسن بن یحییٰ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 200)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عمر بن قيس سندل: متروك (تقريب: 4959) والراوي عنه الحسن بن يحيي الخشني: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري من أجلھما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 2990 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، يَعْلَى ، إِسْمَاعِيل ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن ابی او فی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمرہ کیا ہم آپ کے ساتھ تھے، آپ نے طواف کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا، آپ نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ہم مکہ والوں سے آپ کو آڑ میں کیے رہتے تھے کہ وہ آپ کو کوئی اذیت نہ پہنچا دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 53 (1600)، سنن ابی داود/الحج 56 (1902)، (تحفة الأشراف (5155)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 68 (1332)، مسند احمد (4/ 353، 355، 381)، سنن الدارمی/المناسک 77 (1963) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح