مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، يَعْلَى ، إِسْمَاعِيل ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن ابی او فی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمرہ کیا ہم آپ کے ساتھ تھے، آپ نے طواف کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا، آپ نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ہم مکہ والوں سے آپ کو آڑ میں کیے رہتے تھے کہ وہ آپ کو کوئی اذیت نہ پہنچا دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 53 (1600)، سنن ابی داود/الحج 56 (1902)، (تحفة الأشراف (5155)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 68 (1332)، مسند احمد (4/ 353، 355، 381)، سنن الدارمی/المناسک 77 (1963) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح