بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حج میں شرط لگانا جائز ہے۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل باب: حج میں شرط لگانا جائز ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2936 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، سُعْدَى بِنْتِ عَوْفٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَدَّتِهِ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَوْ سُعْدَى بِنْتِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ:" مَا يَمْنَعُكِ يَا عَمَّتَاهُ مِنَ الْحَجِّ؟"، فَقَالَتْ: أَنَا امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ، وَأَنَا أَخَافُ الْحَبْسَ، قَالَ:" فَأَحْرِمِي، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر اپنی جدّہ (دادی یا نانی) سے روایت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسماء بنت ابی بکر ہیں یا سعدیٰ بنت عوف) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ضباعہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا: پھوپھی جان! حج کرنے میں آپ کے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں پہنچ نہیں سکوں گی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ احرام باندھ لیں اور شرط کر لیں کہ جس جگہ بہ سبب بیماری آگے نہیں جا سکوں گی، وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15892، ومصباح الزجاجة: 1033)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/349) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابوبکر بن عبد اللہ مستور ہیں، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 4 / 187)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2937 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَوَكِيعٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، ضُبَاعَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ضُبَاعَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ:" أَمَا تُرِيدِينَ الْحَجَّ الْعَامَ"، قُلْتُ: إِنِّي لَعَلِيلَةٌ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" حُجِّي وَقُولِي مَحِلِّي، حَيْثُ تَحْبِسُنِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ضباعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، میں اس وقت بیمار تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا امسال آپ کا ارادہ حج کرنے کا نہیں ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حج کرو اور یوں (نیت میں) کہو: اے اللہ جہاں تو مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15914، ومصباح الزجاجة: 1034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/360) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2938 سنن ابن ماجہ
أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، طَاوُسًا ، وَعِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، وَعِكْرِمَةَ ، يُحَدِّثَانِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ أُهِلُّ؟، قَالَ:" أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي، أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور (اللہ سے) شرط کر لو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 15 (1208)، سنن النسائی/الحج 60 (2767)، (تحفة الأشراف: 5754، 6214)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 22 (1776)، سنن الترمذی/الحج 97 (941)، مسند احمد (1/337، 352)، سنن الدارمی/المناسک 15 (1852) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ مرض احصار (رکاوٹ) کا سبب بن سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح