بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2938 — باب: حج میں شرط لگانا جائز ہے۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل باب: حج میں شرط لگانا جائز ہے۔ حدیث 2938
حدیث نمبر: 2938 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، طَاوُسًا ، وَعِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، وَعِكْرِمَةَ ، يُحَدِّثَانِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ أُهِلُّ؟، قَالَ:" أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي، أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور (اللہ سے) شرط کر لو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 15 (1208)، سنن النسائی/الحج 60 (2767)، (تحفة الأشراف: 5754، 6214)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 22 (1776)، سنن الترمذی/الحج 97 (941)، مسند احمد (1/337، 352)، سنن الدارمی/المناسک 15 (1852) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ مرض احصار (رکاوٹ) کا سبب بن سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2937) باب پر واپس اگلی حدیث (2939) →