بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: لقطہ کے احکام و مسائل باب: راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2505 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفٍ ، عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ، ثُمَّ لَا يُغَيِّرْهُ وَلَا يَكْتُمْ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ ایک یا دو معتبر شخص کو اس پر گواہ بنا لے، پھر وہ نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ چھپائے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/اللقطة 1 (1709)، (تحفة الأشراف: 11013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/162، 266) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: صحیحین میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چاندی اور سونے کے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا تھیلا اور سربند پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کو پوچھتے رہو، اگر کوئی اس کو نہ پہچانے تو خرچ کر ڈالو، لیکن وہ تمہارے پاس امانت ہو گی، جب اس کا مالک آئے،گرچہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد تو تم اس کو دے دو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2506 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعُذَيْبِ الْتَقَطْتُ سَوْطًا، فَقَالَا لِي: أَلْقِهِ، فَأَبَيْتُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَبْتَ، الْتَقَطْتُ مِائَةَ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً"، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا". فَعَرَّفْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَقَالَ:" اعْرِفْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَإِلَّا، فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا، جب ہم عذیب پہنچے تو میں نے وہاں ایک کوڑا پڑا ہوا پایا، ان دونوں نے مجھ سے کہا: اس کو اسی جگہ ڈال دو، لیکن میں نے ان کا کہا نہ مانا، پھر جب ہم مدینہ پہنچے، تو میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تم نے ٹھیک کیا، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں سو دینار پڑے پائے تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سال بھر تک اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو، میں پتا کرتا رہا، لیکن کسی کو نہ پایا جو انہیں پہچانتا ہو، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا تھیلا، بندھن اور اس کی تعداد یاد رکھو، پھر سال بھر اس کے مالک کا پتا کرتے رہو، اگر اس کا جا ننے والا آ جائے تو خیر، ورنہ وہ تمہارے مال کی طرح ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/اللقطة 1 (2426)، صحیح مسلم/اللقطة 1 (1723)، سنن ابی داود/اللقطة 1 (1701، 1702)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1374)، (تحفة الأشراف: 28)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/126، 127) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: صحیح مسلم کی روایت میں ہے: «ثمَّ عرِّفها سنةً، فإن جاء صاحبُها وإلا فشأنكَ بها» سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو، اگر اس کا جاننے والا آ جائے تو خیر ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2507 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِعَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو، اگر کوئی اس کی (پہچان) کر لے تو اسے دے دو، ورنہ اس کی تھیلی اور اس کا بندھن یاد رکھو، پھر اس کو اپنے کھانے میں استعمال کر لو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے ادا کر دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/اللقطة 1 (1722)، سنن ابی داود/اللقطة 1 (1706)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1372، 1373)، (تحفة الأشراف: 3748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/116، 5/193) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مکہ میں جو لقطہ (گری پڑی چیز)ملے اس کے مالک کے تلاش کرنے میں زیادہ کوشش کرنی چاہئے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ مکہ کا لقطہ جائز نہیں، مگر اس کے لئے جو اس کو دریافت کرے، صحیحین میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے راستہ میں ایک کھجور پائی تو فرمایا: اگر مجھ کو یہ ڈر نہ ہوتا کہ شاید یہ صدقہ کی ہو تو میں اسے کھا لیتا، اور احمد و طبرانی اور بیہقی نے یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جس نے رسی یا درہم وغیرہ جیسا حقیر لقطہ اٹھایا تو وہ اس کے بارے میں تین دن تک پوچھے، اگر اس سے زیادہ چاہے تو چھ دن تک پوچھے اور مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک دینار لائے جس کو انہوں نے بازار میں پایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین دن اس کے مالک کو پوچھتے رہو، انہوں نے پوچھا کوئی مالک نہیں پایا، جو اس کو پہچانے تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب اس کو کھا لو (یعنی خرچ کر لو) اگر لقطہ کھانے کی چیز ہو (جیسے روٹی پھل وغیرہ) تو اس کا پوچھنا ضروری نہیں فوراً اس کا کھا لینا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح