بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2505 — باب: راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: لقطہ کے احکام و مسائل باب: راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان۔ حدیث 2505
حدیث نمبر: 2505 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفٍ ، عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ، ثُمَّ لَا يُغَيِّرْهُ وَلَا يَكْتُمْ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ ایک یا دو معتبر شخص کو اس پر گواہ بنا لے، پھر وہ نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ چھپائے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/اللقطة 1 (1709)، (تحفة الأشراف: 11013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/162، 266) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: صحیحین میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چاندی اور سونے کے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا تھیلا اور سربند پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کو پوچھتے رہو، اگر کوئی اس کو نہ پہچانے تو خرچ کر ڈالو، لیکن وہ تمہارے پاس امانت ہو گی، جب اس کا مالک آئے،گرچہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد تو تم اس کو دے دو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2504) باب پر واپس اگلی حدیث (2506) →