بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حوالہ (یعنی قرض کو دوسرے کے ذمہ کر دینے) کا بیان ؎۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: حوالہ (یعنی قرض کو دوسرے کے ذمہ کر دینے) کا بیان ؎۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2403 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے، تو اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/البیوع 99 (4695)، 101 (4705)، (تحفة الأشراف: 13693)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحوالہ 1 (2288)، 2 (2289)، الإستقراض 12 (2400)، صحیح مسلم/المساقاة 7 (1564)، سنن ابی داود/البیوع 10 (3345)، سنن الترمذی/البیوع 68 (1308)، موطا امام مالک/البیوع 40 (84)، مسند احمد (2/245، 254، 260، 315، 377، 380، 463، 464، 465)، سنن الدارمی/البیوع 48 (2628) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اس کے حوالہ کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2404 سنن ابن ماجہ
إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، هُشَيْمٌ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تمہیں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اس کی حوالگی کو قبول کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8535، ومصباح الزجاجة: 843)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/71) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں یونس بن عبید اور نافع کے مابین انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے یہ صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: یعنی اگر آدمی مفلس ہو اور پیسہ پاس نہ ہو تو قرض ادا کرنے میں مجبوری ہے، لیکن پیسہ ہوتے ہوئے لوگوں کا قرض نہ دینا اس میں دیر لگانا گناہ ہے اور قرض خواہ پر ظلم ہے گویا اس کا حق مارنا گناہ ہے، اور اپنے نفس پر بھی ظلم ہے اس واسطے کہ زندگی کا اعتبار نہیں، شاید مر جائے اور قرض خواہ کا قرض رہ جائے، اس لئے جب پیسہ ہو تو فوراً قرض ادا کر دے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح