هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے، تو اس کی حوالگی قبول کرے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/البیوع 99 (4695)، 101 (4705)، (تحفة الأشراف: 13693)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحوالہ 1 (2288)، 2 (2289)، الإستقراض 12 (2400)، صحیح مسلم/المساقاة 7 (1564)، سنن ابی داود/البیوع 10 (3345)، سنن الترمذی/البیوع 68 (1308)، موطا امام مالک/البیوع 40 (84)، مسند احمد (2/245، 254، 260، 315، 377، 380، 463، 464، 465)، سنن الدارمی/البیوع 48 (2628) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس کے حوالہ کیا جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح