مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيَّنَهُ لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/النکاح 6 (1414)، (تحفة الأشراف: 9932)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/158) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عیب بیان کر دینے کے بعد خریدار اس مال کو خریدے تو اس کو پھیرنے کا اختیار نہ ہو گا، اگر عیب نہ بیان کرے تو اختیار ہو گا، جب عیب معلوم ہو تو اس کو پھیر دے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح ولـ م الجملة الأولى نحوه
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح ولـ م الجملة الأولى نحوه