أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ ، سبيعة بنت الحارث
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ ، أنهما كتبا إلى سبيعة بنت الحارث يسألانها عَنْ أَمْرِهَا، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا إِنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ، فَتَهَيَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَيْرَ، فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَقَالَ: قَدْ أَسْرَعْتِ اعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَفِيمَ ذَاكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتِ زَوْجًا صَالِحًا، فَتَزَوَّجِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسروق اور عمرو بن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو خط لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ان کا کیا معاملہ تھا؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جواب لکھا کہ ان کے شوہر کی وفات کے پچیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر وہ خیر یعنی شوہر کی تلاش میں متحرک ہوئیں، تو ان کے پاس ابوسنابل بن بعکک گزرے تو انہوں نے کہا کہ تم نے جلدی کر دی، دونوں میعادوں میں سے آخری میعاد چار ماہ دس دن عدت گزارو، یہ سن کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کس لیے“؟ میں نے صورت حال بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی نیک اور دیندار شوہر ملے تو شادی کر لو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المغازي10تعلیقاً (3991)، الطلاق 39 (5319)، صحیح مسلم/الطلاق 8 (1484)، سنن ابی داود/الطلاق 47 (2306)، سنن النسائی/الطلاق 56 (3548)، (تحفة الأشراف: 15890)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/432) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح