أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، أَبِي السَّنَابِلِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ ، قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بِنْتُ الْحَارِثِ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِبِضْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَشَوَّفَتْ، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، وَذُكِرَ أَمْرُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ مَضَى أَجَلُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسنابل کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے بیس سے کچھ زائد دنوں بعد بچہ جنا، جب وہ نفاس سے پاک ہو گئیں تو شادی کی خواہشمند ہوئیں، تو یہ معیوب سمجھا گیا، اور اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے کیونکہ اس کی عدت گزر گئی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطلاق 17 (1193)، سنن النسائی/الطلاق 56 (3549)، (تحفة الأشراف: 12053)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/305)، سنن الدارمی/الطلاق 11 (2327) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح