بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1952 سنن ابن ماجہ
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، هُشَيْمٌ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، حُمَيْضَةَ بِنْتِ الشَّمَرْدَلِ ، قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ الشَّمَرْدَلِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانِ نِسْوَةٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قیس بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا، اور میرے پاس آٹھ عورتیں تھیں، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کا انتخاب کر لو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الطلاق 25 (2241، 2242)، (تحفة الأشراف: 11089) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ کفر کا نکاح معتبر ہو گا اگر میاں بیوی دونوں اسلام قبول کر لیں تو ان کا سابقہ نکاح برقرار رہے گا، تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہو گی، یہی امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا مذہب ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جدائی کے وقت ترتیب نکاح غیر موثر ہے، مرد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ پہلی بیوی کو روک رکھے بلکہ اسے اختیار ہے جسے چاہے روک لے اور جسے چاہے جدا کر دے، یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیثیں حنفیہ کے خلاف حجت ہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2241،2242)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 1953 سنن ابن ماجہ
يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کو رکھو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/النکاح 32 (1128)، (تحفة الأشراف: 6949)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 29 (76)، مسند احمد (2/13، 14، 44، 183) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا حرام ہے، لیکن اس حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے، آپ کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں تھیں، یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی، اور اس میں بہت سی دینی اور سیاسی مصلحتیں کار فرما تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں، غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے، فتح طائف کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح