بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1953 — باب: آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟ حدیث 1953
حدیث نمبر: 1953 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کو رکھو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/النکاح 32 (1128)، (تحفة الأشراف: 6949)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 29 (76)، مسند احمد (2/13، 14، 44، 183) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا حرام ہے، لیکن اس حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے، آپ کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں تھیں، یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی، اور اس میں بہت سی دینی اور سیاسی مصلحتیں کار فرما تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں، غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے، فتح طائف کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1952) باب پر واپس اگلی حدیث (1954) →