بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نکاح کے اعلان کرنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: نکاح کے اعلان کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1895 سنن ابن ماجہ
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَالْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَالْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17453، ومصباح الزجاجة: 675) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں خالد بن الیاس ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ» کا جملہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1993، سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 982)
قال الشيخ الألباني
ضعيف دون الشطر الأول فهو حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (1089)
خالد بن إياس: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
الحكم: ضعيف دون الشطر الأول فهو حسن
حدیث نمبر: 1896 سنن ابن ماجہ
عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، هُشَيْمٌ ، أَبِي بَلْجٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ، وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے، اور اس کا اعلان کیا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/النکاح 6 (1088)، سنن النسائی/النکاح 72 (3371)، (تحفة الأشراف: 11221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/418، 4/259) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: تاکہ سب لوگوں کو خبر ہو جائے کہ یہاں نکاح ہوا ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ سوائے دف کے اور باجے بھی درست ہیں یا نہیں؟ جیسے طبلے سارنگی وغیرہ بعضوں نے دف کے سوا دوسرے سارے باجوں کو ناجائز رکھا ہے اور بعضوں نے شادی اور عید میں جائز رکھا ہے، اور وقتوں میں جائز نہیں رکھا۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن