عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، هُشَيْمٌ ، أَبِي بَلْجٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ، وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے، اور اس کا اعلان کیا جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/النکاح 6 (1088)، سنن النسائی/النکاح 72 (3371)، (تحفة الأشراف: 11221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/418، 4/259) (حسن)»
وضاحت
۱؎: تاکہ سب لوگوں کو خبر ہو جائے کہ یہاں نکاح ہوا ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ سوائے دف کے اور باجے بھی درست ہیں یا نہیں؟ جیسے طبلے سارنگی وغیرہ بعضوں نے دف کے سوا دوسرے سارے باجوں کو ناجائز رکھا ہے اور بعضوں نے شادی اور عید میں جائز رکھا ہے، اور وقتوں میں جائز نہیں رکھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن