دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم نے (میرے نزدیک) آنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لی ہے؟“ تو انہوں نے کہا: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھ لو، اور ہلکی پڑھو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابی داود/الصلاة 237 (1116)، (تحفة الأشراف: 2294و 12368)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 32 (930)، 33 (931)، سنن الترمذی/الجمعة 15 (510)، سنن النسائی/الجمعة 16 (1396)، مسند احمد (3/380)، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1592) (صحیح)» (اس حدیث میں «قبل أن تجیٔ» کا جملہ شاذ ہے)
وضاحت
۱؎: امام مزی کہتے ہیں کہ راوی نے اس روایت میں غلطی کی، اور «صواب» یہ ہے «أصلّيت ركعتين قبل أن تجلس» اس کو راوی نے «تجيىء» کر دیا۔ اب علماء کا اختلاف یہ ہے کہ تحیۃ المسجد سنت ہے یا واجب؟ ظاہر حدیث سے اس کا وجوب نکلتا ہے، اور امام شوکانی نے ایک مستقل رسالہ میں اس کے وجوب کو ثابت کیا ہے، اور علامہ نواب صدیق حسن نے الروضہ الندیہ (۱؍۳۷۲) میں اسی کو حق کہا ہے، دلائل کی روشنی میں جمعہ کے دن مسجد میں آنے والے کے لئے دو رکعت ادا کرنا کم سے کم سنت موکدہ تو ہے ہی۔ جبکہ محققین نے اس کو واجب کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله قبل أن تجيء فإنه شاذ
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
حفص بن غياث: عنعن وھو مدلس
والحديث في صحيح مسلم (875) ولم يذكر ’’ قبل أن تجئ ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
الحكم: صحيح دون قوله قبل أن تجيء فإنه شاذ