مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ:" أَصَلَّيْتَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران ایک شخص مسجد میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نماز پڑھ لی؟“ اس نے کہا: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت پڑھ لو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الصلاة 250 (511)، سنن النسائی/الجمعة 26 (1409)، (تحفة الأشراف: 4272)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/25)، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1593) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام خطبہ کے دوران بات کر سکتا ہے، اور مقتدی بھی امام کا جواب دے سکتا ہے، لیکن ازخود مقتدی کا خطبہ کی حالت میں بات کرنا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن صحيح