بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 1047 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13145)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلا 49 (258)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (515)، سنن ابی داود/الصلاة 8 7 (625)، سنن النسائی/القبلة 14 (764)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (30)، مسند احمد (6/230، 239، 285، 345، 495، 498، 499، 501)، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1410) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کو دو کپڑے نہیں مل سکتے، اکثر کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، اور نماز سب پر فرض ہے، تو ضرور ایک کپڑے میں نماز جائز ہو گی، جمہور علماء کے نزدیک نماز ایک کپڑے میں جائز ہے گو اس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں، اور بعضوں نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھے گو ایک کپڑے میں بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1048 سنن ابن ماجہ
أَبُو كُرَيْبٍ ، عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ:" دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 52 (519)، (تحفة الأشراف: 3982) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «متوشحًا» یعنی لپیٹے ہوئے، تو «شح» یہ ہے کہ کپڑے کا جو کنارہ داہنے کندھے پر ہو اس کو بائیں بغل کے نیچے سے لے جائے، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینے پر گرہ دے لے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1049 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم" يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، اور اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة4 (354، 355)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (517)، سنن الترمذی/الصلاة 138 (339)، سنن النسائی/القبلة 14 (765)، (تحفة الأشراف: 10684)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 78 (678)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (29)، مسند احمد (4/26، 27) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1050 سنن ابن ماجہ
أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَنْظَلَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ ، مَعْرُوفِ بْنِ مُشْكَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَنْظَلَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ مُشْكَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِالْبِئْرِ الْعُلْيَا فِي ثَوْبٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کیسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (02تحفة الأشراف: 11170، ومصباح الزجاجة: 376)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/417) (حسن)» (اس کی سند میں عبد الرحمن بن کیسان مستور اور محمد بن حنظلہ غیر معروف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 379 بتحقیق الشہری)
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن كيسان مستور (تقريب:3992)
والحديث السابق (الأصل: 1049) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 1051 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ ، ابْنُ كَيْسَانَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَلَبِّبًا بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کیسان بن جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ ظہر و عصر ایک ہی کپڑے میں پڑھ رہے تھے، اس حال میں کہ آپ اس کو لپیٹے ہوئے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11170، مصباح الزجاجة: 375) (حسن)» (بوصیری نے اس اسناد کی تحسین کی ہے)
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1050)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
الحكم: حسن