أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں“؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13145)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلا 49 (258)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (515)، سنن ابی داود/الصلاة 8 7 (625)، سنن النسائی/القبلة 14 (764)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (30)، مسند احمد (6/230، 239، 285، 345، 495، 498، 499، 501)، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1410) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کو دو کپڑے نہیں مل سکتے، اکثر کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، اور نماز سب پر فرض ہے، تو ضرور ایک کپڑے میں نماز جائز ہو گی، جمہور علماء کے نزدیک نماز ایک کپڑے میں جائز ہے گو اس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں، اور بعضوں نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھے گو ایک کپڑے میں بھی جائز ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح