بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُخَوَّلُ بْنُ رَاشِدٍ ، أَبَا سَعْدٍ ، أَبَا رَافِعٍ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُخَوَّلُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ شَعْرَهُ، فَأَطْلَقَهُ، أَوْ نَهَى عَنْهُ، وَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ عَاقِصٌ شَعَرَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مدینہ کے ایک باشندہ ابوسعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مولی ابورافع کو دیکھا کہ انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اس حال میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے تھے، ابورافع رضی اللہ عنہ نے اسے کھول دیا، یا اس (جوڑا باندھنے) سے منع کیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بالوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12029)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 88 (646)، سنن الترمذی/الصلاة 165 (384)، مسند احمد (6/8، 391)، سنن الدارمی/الصلاة 105 (1420) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ سجدے میں اگر بال کھلے ہوں گے تو وہ بھی سجدہ کریں گے، اور جب جوڑا باندھ لیا جائے تو بال زمین پر نہ گریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرد کے بال لمبے ہوں تو وہ ان کا جوڑا باندھ سکتا ہے، لیکن نماز کے وقت کھول دے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح