بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1041 — باب: نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے کا بیان۔ حدیث 1041
حدیث نمبر: 1041 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" أُمِرْنَا أَلَّا نَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ مَوْطَإٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 81 (204)، (تحفة الأشراف: 9268) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اگر وضو کر کے زمین پر چلیں، اور پاؤں یا کپڑوں میں کوئی نجاست اور گندگی لگ جائے، تو وضو کا دہرانا ضروری نہیں صرف انہیں دھو ڈالنا کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (204)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1040) باب پر واپس اگلی حدیث (1042) →