بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 903 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو عَامِرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم»  اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل فرمائی ہے، اور محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ برکت اتار جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اتاری ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب 10 (4798)، الدعوات 32 (6358)، سنن النسائی/السہو 53 (1294)، (تحفة الأشراف: 4093)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/47) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلاۃ (درود) کے حدیث میں کئی الفاظ وارد ہیں جو چاہے پڑھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 904 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَة
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَة ، فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور آپ کے اہل و عیال پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3370)، تفسیر الأحزاب 10 (4797)، الدعوات 32 (6357)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (406)، سنن ابی داود/الصلاة 183 (976، 977)، سنن الترمذی/الصلاة 234 (483)، سنن النسائی/السہو 51 (1288، 1289)، (تحفة الأشراف: 11113)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/241، 244)، سنن الدارمی/ الصلاة 85 (1381) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 905 سنن ابن ماجہ
عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمِرْنَا بِالصَّلَاةِ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل فرمائی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3369)، الدعوات 33 (6360)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (407)، سنن ابی داود/الصلاة (979)، 183 (1293)، سنن النسائی/السہو 54 (1295)، (تحفة الأشراف: 11896)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصرالصلاة 22 (66)، مسند احمد (5/424) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 906 سنن ابن ماجہ
الْحُسَيْنُ بْنُ بَيَانٍ ، زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي فَاخِتَةَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ بَيَانٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسِنُوا الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالُوا لَهُ: فَعَلِّمْنَا، قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ، وَرَحْمَتَكَ، وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ، وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ، وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، إِمَامِ الْخَيْرِ، وَقَائِدِ الْخَيْرِ، وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہ درود (صلاۃ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیش کیا جائے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجئیے، انہوں نے کہا: کہو:   «اللهم اجعل صلاتك ورحمتك وبركاتك على سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدك ورسولك إمام الخير وقائد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الأولون والآخرون اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! اپنی عنایتیں، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) پر نازل فرما، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، خیر کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں، اے اللہ! ان کو مقام محمود پر فائز فرما، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9168 ومصباح الزجاجة: 329) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (مسعودی اختلاط کے شکار روای ہیں، اس لئے متروک الحدیث ہیں)
وضاحت
۱؎: بعضوں نے کہا بہتر درود وہی ہے جو صحیح روایت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے، اور بعضوں نے کہا جس کے الفاظ زیادہ جامع اور زیادہ عمدہ ہوں، اور یہ جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تمہارا درود پیش کیا جائے، حالانکہ دوسری حدیث میں ہے کہ تمہارا درود میرے اوپر پیش کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس درود میں اخلاص اور صدق نہ ہو وہ قبول نہیں ہوتا، اور جب قبول نہ ہو تو پیش بھی نہ کیا جائے گا، بلکہ درود بھیجنے والے پر واپس کیا جائے گا جیسے تحفہ جب قبول نہیں ہوتا تو واپس کر دیا جاتا ہے، شیخ البانی نے صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں صحیح سندوں سے ثابت درود (صلاۃ) کے سارے صیغوں اور الفاظ کو جمع کر دیا ہے، جس سے مکمل طور پر استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
المسعودي اختلط قبل موته (تقريب: 3919)
وانظر ضعيف سنن الترمذي (2543)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 907 سنن ابن ماجہ
بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، شُعْبَةَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا صَلَّى عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ، أَوْ لِيُكْثِرْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5039، ومصباح الزجاجة: 330) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عاصم بن عبید اللہ منکر الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة و الترغیب والترھیب للمنذری 2/500)
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 8/ 150)
وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 908 سنن ابن ماجہ
جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا، وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5391، ومصباح الزجاجة: 331) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں جبار بن مغلس ضعیف ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2337، وفضل الصلاة علی النبی صلى الله عليه و آله وسلم: ص 46)
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جبارة بن مغلس: ضعيف جدًا و للحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
-
الحكم: حسن صحيح