بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 905 — باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان۔ حدیث 905
عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمِرْنَا بِالصَّلَاةِ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل فرمائی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3369)، الدعوات 33 (6360)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (407)، سنن ابی داود/الصلاة (979)، 183 (1293)، سنن النسائی/السہو 54 (1295)، (تحفة الأشراف: 11896)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصرالصلاة 22 (66)، مسند احمد (5/424) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (904) باب پر واپس اگلی حدیث (906) →