بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عشاء کو عتمہ کی نماز کہنے کی ممانعت۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل باب: عشاء کو عتمہ کی نماز کہنے کی ممانعت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 704 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، فَإِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَإِنَّهُمْ لَيُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعراب (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آ جائیں، اس لیے کہ (کتاب اللہ میں) اس کا نام عشاء ہے، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے «عتمہ» کہتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 39 (644)، سنن ابی داود/الأدب 86 (4984)، سنن النسائی/المواقیت 22 (542)، (تحفة الأشراف: 8582)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/10، 19، 49، 144) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عرب کے لوگ سورج ڈوبنے کے بعد جب اندھیرا ہو جاتا تو اپنے جانوروں کا دودھ دوہتے تھے، تاکہ مانگنے والے محتاج دیکھ نہ سکیں اور ان کو دودھ نہ دینا پڑے، پھر وہی لوگ عشاء کی نماز کو «عتمہ» کہنے لگے، کیونکہ اس کا وقت یہی تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس نام کو مکروہ جانا، کیونکہ محتاجوں کو نہ دینا، اور صدقے کے ڈر سے مال کو چھپانا،بخل اور ایک بری صفت ہے، اور نماز ایک عمدہ عبادت ہے، لہذا اس کا یہ نام بالکل غیر موزوں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی اس نماز کو «عشاء» کہا ہے نہ کہ «عتمہ» ،پس وہی نام بہتر ہے اس پر بھی علماء نے کہا ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ «عتمہ» کا لفظ نہ استعمال کیا جائے، اور اس کو اصطلاحی نام «عشاء» سے پکارا جائے، بعض حدیثوں میں خود «عتمہ» کا لفظ «عشاء» کی نماز کے لئے آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 705 سنن ابن ماجہ
يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ"، زَادَ ابْنُ حَرْمَلَةَ،" فَإِنَّمَا هِيَ الْعِشَاءُ، وَإِنَّمَا يَقُولُونَ الْعَتَمَةُ لِإِعْتَامِهِمْ بِالْإِبِلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اعراب (بدوی) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب نہ آ جائیں، ابن حرملہ نے یہ اضافہ کیا ہے: اس کا نام «عشاء» ہے، اور یہ اعرابی اسے اس وقت اپنی اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے «عتمه» کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13065، ومصباح الزجاجة: 705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/433، 438) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن صحيح