هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، فَإِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَإِنَّهُمْ لَيُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اعراب (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آ جائیں، اس لیے کہ (کتاب اللہ میں) اس کا نام عشاء ہے، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے «عتمہ» کہتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 39 (644)، سنن ابی داود/الأدب 86 (4984)، سنن النسائی/المواقیت 22 (542)، (تحفة الأشراف: 8582)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/10، 19، 49، 144) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عرب کے لوگ سورج ڈوبنے کے بعد جب اندھیرا ہو جاتا تو اپنے جانوروں کا دودھ دوہتے تھے، تاکہ مانگنے والے محتاج دیکھ نہ سکیں اور ان کو دودھ نہ دینا پڑے، پھر وہی لوگ عشاء کی نماز کو «عتمہ» کہنے لگے، کیونکہ اس کا وقت یہی تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس نام کو مکروہ جانا، کیونکہ محتاجوں کو نہ دینا، اور صدقے کے ڈر سے مال کو چھپانا،بخل اور ایک بری صفت ہے، اور نماز ایک عمدہ عبادت ہے، لہذا اس کا یہ نام بالکل غیر موزوں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی اس نماز کو «عشاء» کہا ہے نہ کہ «عتمہ» ،پس وہی نام بہتر ہے اس پر بھی علماء نے کہا ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ «عتمہ» کا لفظ نہ استعمال کیا جائے، اور اس کو اصطلاحی نام «عشاء» سے پکارا جائے، بعض حدیثوں میں خود «عتمہ» کا لفظ «عشاء» کی نماز کے لئے آیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح