بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: تیمم کے احکام و مسائل باب: غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 581 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَغْتَسِلَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنبی ہوتے، اور پانی چھوے بغیر سو جاتے، پھر اس کے بعد اٹھتے اور غسل فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہارة 87 (118)، (تحفة الأشراف: 16024)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 90 (228)، مسند احمد (6/43) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (228) ترمذي (118)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 582 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَاهَا، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اگر اپنی بیوی سے کوئی حاجت ہوتی تو اسے پوری فرماتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16038) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جنبی اگر بغیر غسل کے سونے کا ارادہ کرے تو مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر لے، اور اگر نہ کرے تو بھی جائز ہے جیسا کہ اس حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 583 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً"، قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُ الْحَدِيثَ يَوْمًا، فَقَالَ لِي إِسْمَاعِيل: يَا فَتَى يُشَدُّ هَذَا الْحَدِيثُ بِشَيْءٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنبی ہوتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز یہ حدیث بیان کی تو مجھ سے اسماعیل نے کہا: اے نوجوان! اس حدیث کو کسی دوسری حدیث سے تقویت دی جانی چاہیئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 90 (228)، سنن الترمذی/الطہارة 87 (119)، (تحفة الأشراف: 16023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 106) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: کیوں کہ اس کے راوی ابواسحاق ہیں، اگرچہ وہ ثقہ ہیں،لیکن اخیر عمر میں ان کا حافظہ بگڑ گیا تھا، پس حدیث میں غلطی کا شبہ ہوتا ہے، خصوصاً جب اس کے خلاف دوسری صحیح روایتیں وارد ہوں جو آگے مذکور ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
ضعيف
انظر الحديثين السابقين (581،582)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
الحكم: صحيح