بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 582 — باب: غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: تیمم کے احکام و مسائل باب: غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم۔ حدیث 582
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَاهَا، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اگر اپنی بیوی سے کوئی حاجت ہوتی تو اسے پوری فرماتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16038) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جنبی اگر بغیر غسل کے سونے کا ارادہ کرے تو مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر لے، اور اگر نہ کرے تو بھی جائز ہے جیسا کہ اس حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (581) باب پر واپس اگلی حدیث (583) →