هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ" أُطِيلُ ذَيْلِي فَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ؟، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا: میرا دامن بہت لمبا ہے، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کر دیتی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 140 (383)، سنن الترمذی/الطہارة 109 (143)، (تحفة الأشراف: 18296)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 4 (16)، سنن الدارمی/الطہارة 64 (769) (صحیح)» (اس سند میں ام ولد ابراہیم مجہول ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 407)
وضاحت
۱؎: یہ حال اس لٹکتے ہوئے دامن کا ہے جو ناپاک جگہوں سے رگڑتا ہے، جس کی طہارت کا حدیث میں ایک انوکھا عمدہ اور سہل طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بعد کی پاک جگہ کی رگڑ اسے پاک و صاف کر دے گی برخلاف ہمارے یہاں کے وسوسہ میں مبتلا لوگوں کے جنہوں نے دامنِ محمدی چھوڑ کر شیطان کے گریبان وسواس میں سر ڈالا ہے، اور ادنی سے چھینٹوں کو دھو کر کپڑوں کا ناس نکالا ہے، «نعوذ باللہ من ہذا الوسواس» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح