بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پاک زمین ناپاک زمین کی نجاست کو پاک کر دیتی ہے۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: پاک زمین ناپاک زمین کی نجاست کو پاک کر دیتی ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 531 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ" أُطِيلُ ذَيْلِي فَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ؟، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا: میرا دامن بہت لمبا ہے، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کر دیتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 140 (383)، سنن الترمذی/الطہارة 109 (143)، (تحفة الأشراف: 18296)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 4 (16)، سنن الدارمی/الطہارة 64 (769) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں ام ولد ابراہیم مجہول ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 407)
وضاحت
۱؎: یہ حال اس لٹکتے ہوئے دامن کا ہے جو ناپاک جگہوں سے رگڑتا ہے، جس کی طہارت کا حدیث میں ایک انوکھا عمدہ اور سہل طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بعد کی پاک جگہ کی رگڑ اسے پاک و صاف کر دے گی برخلاف ہمارے یہاں کے وسوسہ میں مبتلا لوگوں کے جنہوں نے دامنِ محمدی چھوڑ کر شیطان کے گریبان وسواس میں سر ڈالا ہے، اور ادنی سے چھینٹوں کو دھو کر کپڑوں کا ناس نکالا ہے،  «نعوذ باللہ من ہذا الوسواس»  ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 532 سنن ابن ماجہ
أَبُو كُرَيْبٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْيَشْكُرِيُّ ، ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ الْمَسْجِدَ فَنَطَأُ الطَّرِيقَ النَّجِسَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم مسجد جاتے ہیں تو ناپاک راستے پر ہمارے پیر پڑ جاتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زمین کا دوسرا (پاک) حصہ اسے پاک کر دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14945، ومصباح الزجاجة: 221) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابراہیم الیشکری مجہول اور ابن أبی حبیبہ (ابراہیم بن اسماعیل) ضعیف راوی ہیں، ابوداود میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ثابت ہے کہ: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو (اس کے بعد کی) مٹی اس کو پاک کر دے گی (حدیث نمبر: 385)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن أبي حبيبة: متفق علي ضعفه كما قال البوصيري،ضعيف
والراوي عنه إبراهيم بن إسماعيل اليشكري: مجهول الحال (تقريب: 151)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 533 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، امْرَأَةٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ" بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقًا قَذِرَةً؟ قَالَ:" فَبَعْدَهَا طَرِيقٌ أَنْظَفُ مِنْهَا"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَذِهِ بِهَذِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے، میں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے بدلے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 140 (384)، (تحفة الأشراف: 18380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/435) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح