أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، امْرَأَةٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ" بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقًا قَذِرَةً؟ قَالَ:" فَبَعْدَهَا طَرِيقٌ أَنْظَفُ مِنْهَا"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَذِهِ بِهَذِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے“، میں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ اس کے بدلے ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 140 (384)، (تحفة الأشراف: 18380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/435) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح